مجزوم کو بلا غسل دفن کر دیا گیا
سوال
زید کو جذام کا عارضہ تھا اور جذام کافی ترقی پر تھا، اسی حالت میں زید کا انتقال ہو گیا، اسکا کوئی وارث نہیں تھا، اب اسکی اس حالت کی وجہ سے کسی نے اسکو غسل دینا گوارہ نہیں کیا اور بلا کفن و بلا نماز کسی صورت سے اسکو ایک گڑھے میں ڈھکیل دیا گیا اب اسکا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر اس کو ہاتھ لگا کر غسل دینا دشوار تھا، تو اس پر لوٹے یا مشک سے پانی بہا دیا جاتا، اگر یہ بھی نہ ہو سکتا تھا، تو ہاتھ پر تھیلی باندھ کر صرف تیمم کرا دیا جاتا، پھر نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جاتا اور اس کیلئے قبر کا بنانا بھی ضروری تھا گڑھے میں دھکیل دینا بھی غلط ہوا، جس میت کو بلا غسل و نماز دفن کر دیا جائے اسکی قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم ہے جب تک اسکے پھٹ جانے اور ٹکڑے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔