عورت کے جنازہ کا ولی شوہر ہے یا باپ؟
سوال
ایک عورت کا انتقال ہو گیا، اسکے والد چاہتے ہیں کہ شوہر کے مکان سے اپنے مکان پر لیجا کر دفن کریں، اس میں اختلاف ہوا بعض کہتے ہیں کہ جنازہ کی نماز یہیں ہو جانی چاہئے بعض کہتے ہیں کہ جب ولی نہیں تو نماز کیسے ادا ہوگی، دریافت طلب یہ ہے کہ ولی باپ ہے یا شوہر؟ اگر شوہر اجازت نہ دے تو باپ جنازہ لے جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور بغیر اجازت ولی نماز ہو جائیگی یا نہیں؟ شوہر اور باپ کے مکان میں تین میل کا فاصلہ ہے۔
جواب
ولو ماتت امرأة ولها اب وابن بالغ عاقل وزوج فالاب احق بها ا هـ بحر ج: ۲، ص: ۱۸۱، اس عبارت سے معلوم ہوا کہ باپ کو ولایت حاصل ہے، نماز جنازہ کیلئے اپنے مکان پر لیجانے کی ضرورت نہیں، شوہر ہی کے مکان پر یا جہاں مناسب ہو والد نمازِ جنازہ پڑھا دے، اگر شوہر نے یا دوسرے لوگوں نے نماز پڑھ لی تب بھی ادا ہو جائیگی، بغیر ولی کی اجازت کے بھی ادا ہو سکتی ہے البتہ ایسی صورت میں ولی کو بعد میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔