ماں یا باپ کے قاتل پر نماز جنازہ
سوال
والدین کے قاتل پر یا والدین میں سے کسی ایک کے قاتل پر جنازہ کی نماز نہیں، بوجہ اہانت اس کی، التنویر، در المختار، مراقی الفلاح، شامی، فتاوی قاضی خاں، رکن دین ص:۱۹۴، کیا یہ درست ہے؟
جواب
در مختار میں ہے: لا يُصَلِّى على قاتل احد ابويه اهانة له والحقه في النهر بالبغاة ا هـ اس پر علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے : الظاهر ان المراد انه لا يُصَلَّى عَلَيْهِ اذا قتله الامام قصاصًا أما لومات حتف انفه يصلّى عَلَيْهِ
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔