الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسلمان عورت جو ہندو کے قبضہ میں ہو اس کی نماز جنازہ

سوال

تقسیم ہند کے وقت بہت سی عورتیں ہندو یا سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی تھیں، ان میں سے ایک مظلوم مسلمان عورت یہاں (انگلستان) ایک ہندو کے قبضہ میں ہے اور اس ہندو سے اس مسلمان عورت کے دو تین بچے بھی ہیں، مذکورہ عورت وقتا فوقتا نماز پڑھ لیتی ہے روزے رکھ لیتی ہے، نیز دوسرے اسلامی رواج بھی ادا کرتی ہے مثلاً مولود، گیارہویں، شب برات و غیره نیز تلاوت قرآن بھی کرتی ہے، تو اگر اس عورت کا انتقال ہو جائے تو یہاں کے مسلمانوں پر اسکا کفن دفن کرنا اور نماز جنازہ پڑھنا واجب ہے یا نہیں؟

جواب

ظاہر ہے کہ اس عورت نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا، بلکہ وہ مظلوم دوسرے ہندو کے قبضہ میں آگئی تھی ممکن ہے کہ اب اس کو خلاصی ممکن ہو مگر وہ اس مرد سے مانوس ہوگئی ہو اس کو وہاں سے علیحدہ ہونے کی کوشش لازم ہے تاہم جب تک تبدیل مذہب کی تصدیق نہ ہو جائے، اس کے مرنے پر اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائیگا، جو مسلم عورت کے ساتھ کیا جاتا ہے، جن لوگوں کو اس وقت اس کی اعانت پر قدرت ہے ان کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو