الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسلم مرد اور کافر عورت سے پیدا شدہ بچہ کا حکم

سوال

زید کہتا ہے کہ ولد الزنا من مسلم و کافرہ ونصرانیۃ (جو ماں کافرہ اور باپ مسلمان دونوں کی پرورش میں ہوں یا صرف باپ مسلمان کی پرورش میں) اگر بچپن میں مر جائے تو اس کی تجہیز وتکفین وغیرہ مسلمانوں کی طرح کی جائیگی بالخصوص جب کہ اس بچہ کا نام بھی مسلمانوں کا سا ہو نیز سن تمیز سے پہلے کسی اسلامی مدرسہ میں داخل کر دیا گیا ہو اور وہ وہیں مدرسہ میں فوت ہو جاوے تو بھی اس کی تجہیز و تکفین وغیرہ مسلمانوں کی طرح کی جائیگی، اور اس پر دربارہ تجہیز و تکفین حکم بالاسلام کیا جائے گا اور اس پر علامہ ابن عابدین کی تقریر جو شامی جلد…

جواب

اتنا تو فریقین کو تسلیم ہے کہ یہ بچہ زنا سے پیدا ہوا ہے اور جو بچہ زنا سے پیدا ہوتا ہے وہ شرعاً ثابت النسب نہیں ہوتا یعنی شرعاً وہ زانی باپ نہیں ہوتا اور وہ بچہ اس کا بیٹا نہیں کہلاتا: لقوله عليه السلام الولد للفراش وللعاهر الحجر (جمع الفوائد ص: ۲۲۶)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو