تارک نماز کا جنازہ اور اس پر جرمانہ
سوال
(۱) اگر کسی مسلمان نے تمام عمر نماز نہیں پڑھی حتی کہ جمعہ اور عیدین کی بھی نہیں پڑھی اور شرابی بھی ہے اور نماز خود بھی نہ پڑھے اور دوسروں کو بھی منع کرے، ایسے شخص کے متعلق کیا حکم ہے، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے یا نہیں؟ (۲) جب کہ آج کل مسلمان حاکم نہیں ہیں، تو ایسے شخص کو جماعت مسلمین شرعی سزا دے سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) ایسا شخص بہت بڑا مجرم ہے، اور سخت گنہگار ہے، مگر اسکے باوجود اسکے جنازہ کی نماز پڑھی جائیگی اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں سنت کے موافق دفن کیا جائیگا۔ صلوا علی كل بر و فاجر الحديث (ابوداود شريف) (۲) جماعت مسلمین ترک تعلق کی سزا دے سکتی ہے، وہ بھی حدود شرع کے اندر، مالی جرمانہ کا اس کو بھی حق نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔