کفن میں متبرک کپڑا / مکرم و محترم زیدت مکارمکمالسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته
سوال
بہشتی زیور اختری ص: ۵۵ ج:۲، کفنانے کے بیان میں مسئلہ ۹ میں لکھا ہے کعبہ شریف کا غلاف یا اپنے پیر کا رومال وغیرہ کوئی کپڑا تبرکا رکھ دینا (قبر میں) درست ہے، اس سے فائدہ کیا ہے اور اس کی افادیت کی کیا دلیل ہے، اور صحابہ و تابعین میں اس کی کوئی نظیر نہیں، عبداللہ ابن ابی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ جو دیا گیا تھا وہ محض بدلہ تھا، اس کرتہ کا جو اس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے کفن کی تنگی کے وقت اپنا کرتہ دیدیا تھا، ورنہ جہاں تک فائدہ کا تعلق ہے خود ارشاد نبوی معالم التنزیل میں یہ نقل کیا ہے کہ میرا کرتہ…
جواب
مشكوة شريف، باب غسل الميت وتكفينه ص: ۱۴۳، میں متفق علیہ حدیث ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبزادی صاحبہ کو غسل دیتے وقت ارشاد فرمایا کہ جب غسل دینے سے فارغ ہو جاؤ تو مجھ کو خبر دینا: فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه فقال اشعرنها اياه (الحدیث)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔