الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تلقین بعد الدفن اور کفن پر عہد نامہ لکھنا

سوال

بہار شریعت میں ہے شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے مونہہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں بلکہ درمختار میں کفن پر عہد نامہ کو جائز کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے مغفرت کی امید ہے (۲) قبر کا طواف تعظیمی منع ہے، اگر برکت کے لئے گرد پھرے تو حرج نہیں مگر عوام منع کئے جاویں۔ (۳) دفن کے کچھ دیر بعد مردہ کو تلقین کرنا مشروع ہے، اہل سنت کے لئے (جوہرہ) یہ جو اکثر کتابوں میں ہے کہ تلقین نہ کیا جاوے یہ معتزلہ کا مذہب ہے، کہ انہوں نے ہماری کتابوں میں یہ اضافہ کیا ہے (رد المحتار)

جواب

در مختار میں عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے مگر کوئی دلیل شرعی جواز کیلئے پیش نہیں کی، شامی نے اس کو رد کیا ہے وقد منا قبيل باب المياه عن الفتح انه تكره كتابة القرآن واسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش وما ذاك الا لاحترامه وخشية وطئه و نحوه مما فيه اهانته الخ اس کے بعد نقل کیا ہے: ان مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالاصبع المسبحة بسم الله الرحمن الرحيم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو