بدیشی کپڑے کا کفن اور اس پر نماز جنازہ
سوال
زید بہت بزرگ و عالم اور متقی پرہیز گار تھا عرصہ سے عمر کے یہاں مقیم تھا بقضاء الہی فوت ہو گیا زید کے تعلقات بکر سے دیرینہ وقدیمانہ تھے اور بہت خوش گوار تھے بکر بھی اپنے وقت کا بہت بڑا عالم اور شیخ الحدیث ہے، زید کے انتقال پر عمر نے بذریعہ تار بکر کو زید کے مرنے کی اطلاع دی چنانچہ تجہیز و تکفین سے پیشتر بکر معہ دیگر مولویوں کے آیا زید کا جنازہ تیار تھا اور بکر کا انتظار کیا جا رہا تھا، بکر سے شرکاء میت نے جنازہ کی نماز پڑھانے کیلئے کہا مگر بکر نے صاف انکار کر دیا کہ اس پر کفن ولایتی لٹھ کا ہے، میں نماز نہیں پڑھاؤں…
جواب
جس کپڑے کا زندگی میں پہننا جائز ہے اس کا کفن بھی جائز ہے اور جس کا زندگی میں پہننا جائز نہیں اس کا کفن بھی پہننا جائز نہیں لٹھ میں اگر کوئی نجاست مادے وغیرہ میں نہیں ہے بلکہ پاک ہے تو اسکا کفن بھی جائز ہے اور اگر اس میں کوئی نجس شئی ہے تو اسکا کفن جائز نہیں، اس کی تحقیق کر لی جائے۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔