الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفن کے بند کا حکم

سوال

کفن پہنانے کے بعد میت کو تین گرہ کفن میں دیدی جاتی ہیں خواہ مرد ہو، یا عورت، سرہانے، کمر میں، پاؤں کی جانب، قبر میں اتارنے کے بعد میت کی تینوں گرہیں کھول دی جاتی ہیں، اور عورت کی صرف منہ کی طرف کھول دی جاتی ہے، اور کمر و پاؤں کی جانب گرہ بدستور لگی رہتی ہے اور بعض لوگ بند ڈھیلے کر دیتے ہیں حدیث وفقہ سے بند کا باندھنا، قبر میں گرہ کا کھولنا وغیرہ ثابت ہے یا نہیں، اور اس طریقہ کو کب کس نے اور کس طرح ایجاد کیا؟

جواب

یہ تین جگہ باندھنے سے یہ فائدہ ہے کہ جنازہ اٹھاتے اور لے جاتے وقت کفن نہ کھل جائے اور قبر میں رکھنے کے بعد یہ اندیشہ نہیں رہتا، اس لئے کھول دیتے ہیں، عورت، مرد سب کے ہی تینوں بند کھول دیئے جاتے ہیں۔ ہر دو کے باندھنے کی بھی مصلحت ایک ہے اور کھولنے کی ایک لہذا تفریق کی ضرورت نہیں، اگر کفن کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو بند باندھنے کی بھی ضرورت نہیں، کبیری شرح منیۃ ص : ۵۳۸، میں بند…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو