کفن پر لکھنا
سوال
عرصہ سے ہمارے ملک میں تحریر کفنی کا جواز عدم جواز کا مسئلہ چل رہا ہے، ایک صاحب نے ایک رسالے میں تحریر کیا ہے، لکھا ہے کہ کفن پر لکھنا ثواب ہے، جس کے ثبوت میں درمختار کی عربی عبارت بھی مع ترجمہ کے لکھی ہوئی ہے، اور کچھ کتابوں کا بلا عبارت جواز کے بارے میں ثبوت دیا ہے، کتابوں کے نام یہ ہیں کفایہ تاتارخانیہ فتاویٰ امام مکی اخبار الاخیار، لمعات“ یہ کتابوں کے نام ہیں، مفتی صاحب کا نام قاضی عبدالسبحان ہے، اور کچھ صاحب کہتے ہیں کہ کچھ بھی لکھنا جائز نہیں ہے، آپ مذکورہ فتویٰ کے متعلق تحریر فرمائیں کہ اس بارے میں کیا حکم…
جواب
کفن میت پر کچھ لکھنا قرآن کریم، حدیث شریف، اجماع امت، قیاس مجتہد سے ثابت نہیں، غیر مجتہد کا عمل شرعاً قابل احتجاج نہیں، درمختار میں جو کچھ اس سلسلے میں لکھا ہے، علامہ شامی نے اس کی تردید کی ہے، ابن الصلاح سے بھی عدم جواز کا فتوی نقل کیا ہے، کیونکہ اس کے لکھنے میں حروف قرآن کریم اور اسماء الہیہ کی بے ادبی ہے، اگر لکھنا ہو تو محض انگلی سے بغیر روشنائی کے میت کی پیشانی پر کچھ لکھ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔