میں شریعت کو نہیں مانتا
سوال
ایک شخص کسی نکاح کے معاملہ میں پہلے خود کہتا ہے کہ جو شریعت فیصلہ کرے گی میں ماننے کیلئے تیار ہوں لیکن جب اس کی اس بات پر اعتماد کرنے کیلئے کہا گیا کہ قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ جو شرعی فیصلہ ہوگا میں مان لوں گا لیکن اس نے ہاتھ رکھنے سے انکار کر دیا کسی نے کہا کہ جب تو قرآن پر ہاتھ نہیں رکھتا تو شریعت کا انکار ہی بنتا ہے اس نے جواب دیا کہ میں شریعت کو نہیں مانتا اس کی اس بات پر تین گواہ بھی گواہی دینے پر تیار ہیں ایسے شخص کے متعلق کیا کہا جائے یہ شخص مسلمان باقی ہے اور زوجین کا نکاح باقی ہے یا بوجہ ارتداد…
جواب
جب وہ شریعت کا حکم ماننے کا وعدہ کر چکا تھا، تو پھر قرآن شریف پر ہاتھ رکھنے کیلئے اصرار کرنا غلط اور بے محل تھا جن لوگوں نے اصرار کیا ابتداء غلطی ان لوگوں کی ہے پھر اسکے بعد یہ کہنا کہ جب تو قرآن پر ہاتھ نہیں رکھتا تو شریعت کا انکار لازم آتا ہے یہ زیادتی ہے تو گویا ان لوگوں نے از خود ہی اس کو شریعت کا منکر قرار دے دیا اور اس سے پہلے کہ اس کی زبان سے کوئی غلط لفظ نکلے اس کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔