شرع کے پابند نہیں قانون کے پابند ہیں کہنے کا حکم
سوال
قانونی عدالت میں جو لوگ بیان دیتے ہیں کہ وہ شریعت محمدی کے پابند نہیں بلکہ رواج عام زمین دارہ کے پابند ہیں ان کے اس انکار شریعت کیلئے حکم شرعی کیا ہے حالاں کہ عدالت پنجاب میں شریعت محمدی ﷺ کے مطابق بھی جائیداد کے مقدمات کے فیصلے کرتی ہے، جواب کیلئے لفافہ ارسال ہے۔
جواب
اگر ایسا کہنے سے حکم شریعت کی تردید اور اہانت مقصود ہے تو یہ کفر ہے اگر اظہار حال مقصود ہے کہ آج کل کوتاہی عمل کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ ہم سب نے حکم شریعت کی پابندی ترک کر دی ہے اور اس کی جگہ قانون کی پابندی اختیار کر لی ہے تو یہ کفر نہیں نیز ایسا کہنا بہت سے معاملات اور مقدمات کے اعتبار سے مطابق واقعہ ہے کیوں کہ اکثر مقدمات خلاف شرع فیصل ہوتے ہیں اگر چہ شاذ ونادر کوئی مقدمہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔