نبوت اور وحی کا مذاق بنانا
سوال
ایک شخص نے جب دوسرے شخص کو نماز کیلئے بلایا اور سمجھایا تو اس نے یہ کہا کہ حضور ﷺ کے پاس تو وحی آتی تھی اگر میرے پاس بھی آنے لگے تو چھ ماہ کیلئے تبلیغ کیلئے چلا جاؤں پھر بعد کو اللہ سے معذرت بھی چاہی بتائیے اس شخص پر کیا لازم ہے؟ ۲۔ پھر تیسرے شخص نے کہا وحی مجھ پر آتی ہے تو اسلام کا دشمن ہے اس شخص پر کیا لازم ہے؟ کیا کفر عائد ہوا اور نکاح بھی ٹوٹ گیا ہے؟ شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب
وحی اور نبوت کا مذاق بنانا اور ایسے کلمات کہنا بہت غلط طریقہ ہے، ایسی باتوں سے نادم ہو کر توبہ کریں آئندہ کبھی بھی ایسا مذاق نہ کریں، توبہ کی تکمیل کیلئے احتیاطاً کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان بھی کر لیں اور بہتر یہ ہے کہ وہ دو گواہوں کے سامنے اپنے نکاح کا دوبارہ ایجاب وقبول بھی کر لیں تا کہ آئندہ پھر کبھی ایسی نوبت نہ آئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔