شان انبیاء میں گستاخی
سوال
ایک مسلمان جس کے ہوش وحواس صحیح ہیں، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت یوسف نبی نہیں تھے اور داستان یوسف کتاب جھوٹی کتاب ہے اور حضور علیہ السلام کے بارے میں کہتا ہے کہ نعوذ باللہ حضور لگائی باز تھے، شہوت پرست تھے، ان کی گیارہ بیویاں تھیں، تو یہ شخص مسلمان کہلائے گا یا کافر؟ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ یہ شخص اگر انتقال کر جائے تو اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی یا نہیں؟
جواب
جس کے دل میں ایمان ہے وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ اس سے ایمان جاتا رہتا ہے، نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس کی تجہیز وتکفین بھی اسلامی طریقہ پر نہیں کی جاتی، اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی ہے جب تک پوری طرح یقین کے ساتھ کسی کا ایسا کہنا ثابت نہ ہو جائے کوئی سخت حکم لگانے میں پوری احتیاط لازم ہے، مبادا یہ حکم کہیں حکم لگانے والے پر نہ لوٹ جائے، اگر خدانخواستہ کسی مسلمان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔