الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میں اللہ اور رسول کو نہیں جانتا کہنے کا حکم مع فتوی سنبھل

سوال

زید اور بکر کے درمیان کسی امر پر بحث چل رہی تھی، تو زید نے کہا بھائی جو بات یا گفتگو کرو وہ اللہ ورسول کے ساتھ ہونی چاہئے، اور اللہ ورسول کو درمیان میں ڈال کر کہو، بکر نے اس پر یہ کہا کہ میں اللہ اور رسول کو نہیں جانتا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور پھر جب بکر سے کہا گیا کہ تو ابھی یہاں سے اٹھ جا، تو ہمارے درمیان بیٹھنے کے قابل نہیں ہے جب تک توبہ نہ کرے یا حکم شرع کے مطابق عمل نہ کرے، تو اس نے کہا یہ الفاظ میرے منھ سے نکل گئے، اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا اور زید کے مخالف ہو گئے اور بکر کی طرفداری کرنے لگے،…

جواب

الجواب: بکر کے اوپر توبہ واجب ہے اور نکاح دوبارہ ہونا چاہئے اور وہ اشخاص جو بکر کے ساتھ ہیں اور اس کے اس کہنے کو کہ میں اللہ اور رسول کو نہیں جانتا برا نہیں سمجھ رہے ہیں اور اس کی تائید کر رہے ہیں ان پر بھی توبہ واجب اور نکاح دوبارہ لازم ہے، حکم شرع میں برادری کا لحاظ لازم نہیں جن اشخاص نے اور زید نے بکر کو اٹھ جانے کو کہا، اس پر ان کو اجر وثواب ملے گا اور جنت کے مستحق ہوں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو