دیوبندی علماء کو کافر کہنا
سوال
بریلوی عقائد کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دیوبندی عقائد کے لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، سلام کرنا کسی قسم کا رابطہ وتعلقات رکھنا نا جائز ہے اور اگر دیوبندی (وہابی) سلام کرے تو اس کا جواب دینا بھی ناجائز ہے اور دیوبندیوں کو کافر بھی کہتے ہیں، ایسی صورت میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کیلئے یہ حالات پریشان کن ہیں، اس لئے اس مسئلہ میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
علماء دیوبند کا مسلک صحیح ہے، قرآن کریم، حدیث شریف، صحابۂ کرام، فقہاء مجتہدین کے بالکل مطابق ہے جو شخص اس کو غلط کہتا ہے وہ ان سب کی مخالفت کرتا ہے اور جو شخص ایسے دیوبندی علماء کو یا ان کے متعلقین کو کافر کہتا ہے وہ اہلِ ایمان کو اہل کفر سمجھتا ہے، اس کو ضروری ہے کہ اپنے ایمان کی خبر لے، اور اصلاح کرائے، ورنہ وہ ہمیشہ ایمان سے نا آشنا رہے گا اور مقبولانِ بارگاہ الہی واولیاء…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔