الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا عبدالوہاب نجدی پر فتوی کفر ہے

سوال

(۱) عبدالوہاب نجدی کے عقائد جن کو حضرت شیخ الاسلام نے الشہاب الثاقب میں بیان فرمایا ہے ان عقائد کی وجہ سے کافر کہا جائے گا یا نہیں؟ (۲) شاہ ابن سعود اور شاہ فیصل کے عقائد وہی تھے جو عبدالوہاب نجدی کے تھے کیا حکم ہے اس کے بارے میں تحقیق کیا ہے؟ (۳) اس حدیث شریف کا کیا مطلب ہے؟ قال النبى ﷺ يوم فتح مكة ان هذا لا كفر بعد اليوم الى يوم القيامة. حدیث بالا میں لفظ مکہ آیا ہے اس کے تحت مدینہ طیبہ داخل ہے یا کہ نہیں؟ (۴) حرمین شریفین پر کافر کی حکومت ہو سکتی ہے یا کہ نہیں؟ (۵)

جواب

ان عقائد کی وجہ سے کافر نہیں کہا جائے گا کسی چیز کا غلط ہونا اور ہے اور اس کا کفر ہونا اور ہے ہر غلط چیز کفر نہیں ہوتی ہے اگر کوئی شخص کسی کو کافر کہے اور شرعی دلائل کی وجہ سے وہ کافر نہ ہو تو یہ کلمہ خود کہنے والے پر لوٹتا ہے اس لئے کسی کو کافر کہنا معمولی بات نہیں۔ نیز کسی مومن کو کافر کہنا اس کو قتل کر دینے کے مانند ہے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو