الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شاگردوں کو کافر کہنے والے کا حکم

سوال

اگر استاد اپنے شاگرد کو کہے کہ یہ شاگرد استاد پر عاق ہے استاد لوگوں سے کہتا ہے کہ یہ شاگرد کافر ہو گیا نماز اس کے پیچھے جائز نہیں شاگرد توبہ نکالتا ہے کئی دفعہ توبہ نکالا ہے لیکن شاگرد پر کسی قسم کا ثبوت بے ادبی کا نہیں اور استاد لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ یہ بالکل کافر ہے، شریعت ایسے استاذ پر کیا حکم کرتی ہے؟

جواب

اولاً شاگرد کے کافر ہونے کی وجہ استاد سے دریافت کی جائے جو کچھ وجہ وہ بتائے اس پر شرعی حیثیت سے غور کیا جائے گا بلا وجہ کسی مسلم کو کافر کہنا خود کفر کے درجہ کا گناہ ہے، اور جب آدمی شریعت کے مطابق سچی توبہ کرتا ہے تو وہ مقبول ہوتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو