الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

علماء دیوبند کو کافر کہنے والا کیا حکم رکھتا ہے؟

سوال

جلال آباد میں جو کہ ایک پرانی بستی ہے قدیم زمانے سے بستی کی جو سب سے بڑی جامع مسجد ہے اس میں ہمیشہ جمعہ ہوتا چلا آیا اور برابر ہو رہا ہے، کچھ عرصہ سے جامع مسجد کے قریب ہی ایک چھوٹی سی محلہ کی مسجد ہے اس میں دو چار آدمیوں نے جو بدعتی عقیدے کے ہیں اور اپنے اکابر کو کافر کہتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ علماء دیوبند کو کافر نہ کہنے والا کافرِ یقینی ہے، ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ صرف ہم یہ عقیدہ رکھنے والے ہی مسلمان ہیں اور مسلمان کی نماز کافر کے پیچھے درست نہیں ہے جس کی وجہ سے ان بدعتی عقیدے کے چار آدمیوں نے جمعہ کی…

جواب

جو شخص علماء دیوبند کو کافر کہتا ہو اور اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتا تو وہ شخص خود ہی خطرناک حالت میں ہے، اس لئے کہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کو کافر کہے اور واقعہ وہ شخص کافر نہ ہو تو وہ کفر خود اس پر لوٹ کر آتا ہے، پس ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں، نہ اس کو کافر کہا جائے نہ اس کا اقتداء کیا جائے، پھر وہ لوگ کسی دیوبندی عقیدے والے کے مسجد میں آجانے سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو