کسی مسلمان کو سردار جی کہنا
سوال
ایک شخص کبھی کبھی نماز کی پابندی کرتا ہے، وحدانیت اور رسالت کا اقرار بھی کرتا ہے، البتہ کبائر اور صغائر گناہ کے بارے میں اس کا رویہ تشفی بخش نہیں ہے، ایسی حالت میں اس کو ”سردار جی“ کے لقب سے یاد کرنا کیسا ہے جبکہ قرآن پاک میں صراحتا ”وَلَا تَنَابَزُوا بِالْالْقَابِ“ وارد ہے، سردار جی کہنے والے کو کیا کیا جائے؟
جواب
مسلمان سخت گنہگار ہونے کے باوجود مسلمان ہے، صغائر وکبائر سے توبہ کرنا بھی لازم ہے، ہمارے عرف میں سردار جی سکھ کو بولتے ہیں، اگر وہاں بھی یہی عرف ہے اور عمر کی مراد بھی یہی ہے تو مسلمان کو سردار جی کہنا جائز نہیں عمر کو لازم ہے کہ ایسا کہنے سے توبہ کرے اور زید سے معافی مانگے ورنہ اس کے ذمہ گناہ باقی رہے گا، زید کو بھی چاہئے کہ اپنی وضع قطع، روش سب اسلام کے مطابق رکھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔