الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسلمان کو کافر کہنا

سوال

(۱) بکر نے بلا سبب ایک شخص مسلمان کو اہانۃً وحقارۃً مرتد کہہ کر گالی دی کہ تو مرتد ہے، کافر ہے، بلا تجدید نکاح اپنی بیوی کو ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ اگر وہ شخص مرتد نہ ہو اور اس کی بیوی کو طلاق نہ ہو تو بکر مرتد ہوا یا نہیں؟ اور اس کی عورت کو طلاق ہوئی یا نہیں؟ (۲) ایک عالم غیر مجتہد نے اپنے قیاس سے زید کو بھول کر ایک فتوی دیا جس پر عمل کرنے سے زید کو نقصان پہنچا، بعدۂ زید نے ایک محقق عالم سے اس کی تحقیق آزمائش کی، معلوم ہوا کہ وہ غلط ہے، زید نے اس عالم غیر مجتہد کو گالی کے طور پر کہا، بیہودہ کھانا کھا کر سو رہتے ہیں،…

جواب

(۱) بلا وجہ شرعی کسی مسلم کو کافر ومرتد کہنا کفر ہے، اسلئے بکر سے وجہ دریافت کی جائے کہ اسنے کس وجہ سے ایسا کہا، جب تک اس کی تحقیق نہ ہو جائے کسی پر کفر کا حکم لگانا درست نہیں۔ (۲) وہ فتویٰ سامنے ہو تو اس کو دیکھ کر رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ وہ صحیح ہے یا غلط، نیز وہ فتوی بھی ساتھ ہونا چاہئے جس کے ذریعہ سے آزمائش کی گئی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو