الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو شخص یہ کہے کہ میں نماز نہیں پڑھتا

سوال

عمداً تارک صلوۃ کے حق میں اور حق میں اس شخص کے جس کو نماز پڑھنے کیلئے بلایا جائے اور وہ شخص نماز پڑھنے سے صاف انکار کر دے یا اس سے اعراض ظاہر کرے مولانا اشرف علی تھانوی نے امداد الفتاوی جلد اول میں ص ۵۳۴ پر جو ادارہ اشرف العلوم کراچی میں چھپا ہے، تارک صلوٰۃ عمداً کے سلسلہ میں مختلف اقوال ثلثہ ذکر کرنے کے بعد یوں تحریر فرمایا ہے اور اگر نماز سے تنفر یا اعراض ظاہر کیا یا تحقیر واستہزاء سے پیش آیا تو کافر ہو جائے گا کیوں کہ اہانت حکم شرعی کی کفر ہے اس پر مختلف علماء کرام کے دستخط موجود ہیں دریافت طلب بات یہ ہے کہ…

جواب

جو شخص قصداً بلا کسی عذر کے نماز فرض کو ترک کرتا ہے اور قضا کرنے کی بھی نیت نہیں رکھتا اور اپنی اس بات پر خدا کے عقاب کا بھی خوف نہیں کرتا اسکے متعلق فقہاء کرام نے لکھا ہے۔ (يكفر) بترك الصلواة متعمداً غير ناو للقضاء وغير خائف من العقاب (بحر ص ۱۲۲ ج ۵)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو