الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مناظرہ سکھانے کیلئے کفریات بولنا کیسا ہے؟

سوال

ہمارے یہاں ایک دینی مدرسہ میں تعلیماً طلبہ کو مناظرہ کی تمرین کرائی جاتی ہے۔ ایک طالب علم اپنے آپ کو کبھی کافر کبھی بدعتی کبھی مرزائی کبھی مودودی ظاہر کرتا ہے جب اپنے کو کافر ظاہر کرتا ہے تو خدا کا انکار اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کرتا ہے۔ دوسرا طالب علم اس کو کافر وغیرہ الفاظ سے مخاطب کر کے اس کا جواب دیتا ہے، اور جب بدعتی ظاہر کرتا ہے تو علماء دیوبند کو گالیاں دیتا ہے اور ان کو کافر بتلاتا ہے۔ دوسرا طالب علم اس کو جواب دیتے ہوئے گمراہ خاں وغیرہ کہتا ہے۔

جواب

اگر فرقہ باطلہ بالکہ سے مناظرہ سکھایا جائے تو کسی طالب علم کا اپنے آپ کو ان فرقوں میں شمار کرنا اور اہل حق کی تضلیل وتکفیر کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں سخت معصیت ہے بلکہ اپنے ایمان کا خطرہ ہے، اقرار کفر اور اجرائے کلمہ کفر اگر چہ اعتقادا نہ ہو استہزاء ہو تو اس کو بھی فقہاء نے موجب کفر لکھا ہے جیسا کہ ”مجمع الانہر، عالمگیری، شامی، شرح فقہ اکبر“، وغیرہ میں مذکور ہے، اس لئے مناظرہ کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو