الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سخت کلمہ اور اس کا جواب

سوال

ایک گاؤں میں دو پارٹی ہیں دونوں مسلم حنفی المسلک ہیں ایک پارٹی کا ایک شخص اپنی اکثریت دولت اور نفسانیت کی بنا پر اگر یہ جملہ کہے کہ ہم بے شرع ہی رہیں گے اور ایک نے اسی بنیاد پر یہ جملہ کہا کہ”ہم فتوی نہیں مانتے“۔ اور ایک شخص نے یہ جملہ کہا کہ ہم دس حرام سور کھا چکے ہیں ایک اور کھائیں گے دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان مذکورہ تینوں اشخاص کے اس جملہ پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ یہ لوگ اسلام سے خارج ہو جائیں گے؟ پھر سے تجدید ایمان ونکاح کرنا ضروری ہے؟

جواب

جہالت اور نفسانیت کی بنا پر یہ جملے کہے گئے ہیں اگر ان کو شرعی حکم معلوم ہوتا اور نفس پر قابو ہوتا تو ہرگز اسکی نوبت نہ آتی اب ایسا کہنے والوں کو حکم شرعی بتایا جائے گا تو اندیشہ ہے کہ پھر جہالت اور نفسانیت جوش میں نہ آجائے اور زیادہ خطرناک جملے نہ زبان سے نکل جائیں اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان کا کوئی خیر خواہ قابل اعتماد ان کو سمجھائے کہ وہ خود ہی حکم دریافت کر لیں تاکہ ان کو بتا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو