اگر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی ایک بات کہیں گے تو نہیں مانوں گا
سوال
خالد اور حامد دونوں کے جھگڑے کے درمیان ماجد پہونچا اور اس سے کہا کہ صلح کر لو تو حامد بولا کہ اگر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی آکر منع کریں گے تو بھی نہیں مانوں گا اب ایسے شخص کو گنہگار کہا جائے یا کافر؟ بینوا وتوجروا
جواب
یہ جملہ نہایت سخت ہے، حسب تصریح فقہاء ایسے شخص کا اسلام سلامت رہنا دشوار ہے تجدید ایمان ونکاح کیا جائے توبہ کر کے خدا سے پختہ عہد کیا جائے کہ اس قسم کا کوئی لفظ بلکہ کوئی بھی حرکت خدائے پاک کے نبی کے خلاف سرزد نہ ہونے پائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔