یہ کہنا کہ ”رزق ہم دیں گے“
سوال
قاری فخرالدین صاحب نے ایک آدمی کو کہا کہ روزی ہم دیں گے کیا ایسا کہنا شریعت کے نزدیک جائز اور درست ہے؟
جواب
قاری فخر الدین صاحب حیات ہوں تو خود ان سے ہی اس کا مطلب دریافت کیا جائے ممکن ہے کہ ان کی تشریح سے اشکال ختم ہو جائے، حقیقتا رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے، اہلِ عرب مجازاً بولتے ہیں رزق الامير الجند امیر نے لشکر کو رزق دیا یعنی تقسیم کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔