الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر میں نے فلاں کام کیا تو مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو

سوال

زید ایک مسجد میں امامت کرتا ہے وہ حافظ قرآن بھی ہے، لیکن اس کی عادت یہ ہے کہ جب وہ کوئی غلط کام کرلے اور لوگ اس سے اس کی وجہ پوچھتے ہیں تو فوراً کہتا ہے کہ حاشا وکلا مجھے مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو، اگر ایسا کیا ہو، کیا ان الفاظ کے استعمال کرنے سے ایمان باقی رہتا ہے یا نہیں؟ ان الفاظ کے بارے میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ شرک ہے، نیز ہم لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہیں؟

جواب

ایسا کہنا تو شرک نہیں ہے نہ ایسا کہنے سے آدمی مشرک ہوتا ہے لیکن بات بات پر ایسا کہنا نہایت مذموم وقبیح فعل ہے، لوگ بھی ایسے آدمی کو جھوٹا سمجھتے ہیں، اگر خدانخواستہ وہ بات غلط ہو تو یہ مرتے وقت اپنے حق میں کلمہ نصیب نہ ہونے کی بد دعا ہے، اگر قبول ہو جائے تو خاتمہ کتنا خطرناک ہے، امام صاحب کی خدمت میں درخواست کی جائے کہ ایسا نہ کیا کریں، بغیر اسکے بھی ان کی بات کا یقین کر لیا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو