خدائی کا دعوی
سوال
ایک حافظ خدائی کا دعوی کرتا ہے کہ یہاں کے لڑکے ہرگز پڑھ نہیں سکتے، اگر پڑھ لیں تو مجھے زندہ گاڑ دینا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ شخص غیب کی باتیں جانتا ہے جب کہ سوائے خدا کے کسی کو غیب کا علم نہیں، ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟
جواب
جب لڑکے بد شوق ہوں اور والدین کو پڑھانے کا شوق نہ ہو تو استاذ کی سب محنت بیکار جاتی ہے، اس سے پریشان ہو کر استاذ کہہ دیں کہ یہاں کے لڑکے ہرگز نہیں پڑھ سکتے تو یہ خدائی کا دعوی نہیں، نہ یہ علم غیب کا دعویٰ ہے بلکہ حالت کا اندازہ عموماً کر کے رائے قائم کی جاتی ہے، اس لئے اس بات کی وجہ سے حافظ کو برا نہ کہا جائے، نہ کوئی اور غلط معاملہ کیا جائے، بلکہ ان کا ادب واحترام کیا جائے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔