زوجہ کا ایک کفریہ خط زوج کے نام
سوال
زید اور ہندہ میں زوجیت کا رشتہ ہے، لہذا ہندہ زید کو یہ خط تحریر کر رہی ہے، خط کی عبارت اور مضمون یہ ہے: بعد سلام کے عرض کرتی ہوں آپ کہتے ہیں کہ میں گھر جاتا ہوں تو مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا، آپ سے جب تک کوئی بات نہیں کریگا جب تک کہ آپ کام نہیں سیکھ لیتے، پورا کام سیکھ لو اور ڈاڑھی کم کرو اور قمیص اونچی کرو کیوں کہ بالکل بوڑھے لگتے ہو اور اچھے نہیں لگتے، اس وجہ سے آپ سے سب گھبراتے ہیں، سادھو سے ہو، مولوی بھی بہت دیکھے لیکن ایسے نہیں دیکھے جیسے تم۔
جواب
ہندہ کی اس تحریر کی بناء پر نکاح ختم ہو کر ہندہ زید کی زوجیت سے خارج نہیں ہوئی، دوبارہ نکاح کی بھی ضرورت نہیں، پہلا نکاح باقی ہے، اس نے جو خط لکھا وہ جہالت اور ماحول کا اثر ہے اس کو تعلیم وتفہیم کی ضرورت ہے، زید کو داڑھی کٹانے کی ضرورت نہیں، نہ اس کی اجازت ہے، اس داڑھی سے نہ وہ سادھو معلوم ہوتا ہے نہ گاؤں والا، ہندہ کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے، مہر اس تحریر کی وجہ سے ساقط نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔