الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

یہ دعویٰ کہ میں جب چاہوں بارش کرادوں

سوال

ایک شخص نہایت عبادت کرنے والا ہے اور وہ بارش کے بارے میں خدائی دعوی کرتا ہے یعنی وہ کہتا ہے کہ میں جب چاہوں بارش کرادوں اور جب چاہوں بند کرادوں اس شخص کے بارے میں علماء کیا خیال کرتے ہیں اور نماز اس شخص کے پیچھے کیسی ہے جائز ہے یا نا جائز؟

جواب

یہ خدائی کا دعوی نہیں اگر وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں جب چاہوں بارش کر دوں اور جب چاہوں بند کر دوں اس میں فقط میرا حکم چلتا ہے خدا کا حکم نہیں چلتا تو البتہ خدا کی خدائی کا اس خاص معاملہ میں انکار ہوتا، اور اپنی طرف خدا کے اس فعل کی نسبت ہوتی، صورت مسئولہ میں تو وہ یہ کہتا ہے کہ جب چاہوں بارش کرادوں، جب چاہوں بند کرادوں، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میرا اتنا تعلق ہے کہ وہ میری…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو