غیر مذہب کی کتابیں دیکھنا اور اپنے کفر کا اقرار کرنا
سوال
زید کسی غیر مذہب کی کتاب بوجہ استدلال یا باعتبار اعتراض کے دیکھتا ہے مگر زید کی قوم زید کو اس کتاب کے دیکھتے ہوئے دیکھتی ہے تو قوم زید سے دریافت کرتی ہے کہ تم کتاب کیوں دیکھتے ہو، زید نے وہی جواب دیا جو اوپر مذکور ہوا، مگر قوم نہیں مانتی بلکہ زید کو لعن طعن کرنا اور برا کہنا شروع کر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ تو کافر ہو جائیگا، خدانخواستہ، اس وجہ سے زید کو غصہ آجاتا ہے اور یہ الفاظ زبان سے نکالتا ہے غصہ کی حالت میں کہ میں تو کافر ہوں گا جو تم سے ہو کر، مگر قوم باوجود ان کلمات کے سننے کے چپ نہیں ہوئی…
جواب
عالم فہیم شخص کو مناظرہ کیلئے غیر مذہب کی کتب کا مطالعہ جائز ہے، اگر اپنے عقائد خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور ایسے شخص کو قوم کا بار بار ایسے سخت الفاظ کہنا بہت برا اور ناجائز ہے نیز زید کا ایسا جواب دینا جو سوال میں مذکور ہے سخت خطرناک اور گناہ ہے حتی کہ بعض فقہاء نے ایسے الفاظ بولنے والے کی تکفیر کی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں زید کو احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔