اپنی بیوی کو بغیر کپڑے کے نچوانا
سوال
ایک مجلس میں دو عالم نے وعظ کہا، پہلے عالم صاحب پردہ کے متعلق وعظ فرما کر چلے آئے، اسکے پیچھے دو شخصوں نے ان عالم صاحب کو برا بھلا کہا اور یہ بھی کہا کہ وہی پڑھ کر آیا ہے اور کوئی عالم نہیں، ہم اپنی بیوی لوگوں کے سامنے بغیر کپڑے کے نچوائیں گے، اس بات کو دوسرے عالم صاحب نے سن کر قرآن وحدیث پڑھ کر بہت سمجھایا لیکن وہ نہیں مانے، اس پر اس عالم صاحب نے کفر کا حکم فرمایا یہ حکم صحیح ہے یا نہیں؟ اگر حکم صحیح نہ ہو تو کہنے والے پر کیا حکم ہونا چاہئیے؟ مدل فرمائیں۔
جواب
شریعت کا حکم معلوم ہونے پر اس طرح اس کا انکار کرنا یہ شریعت کا مقابلہ کرنا ہے، جو کہ مسلمان کا کام نہیں کافروں جیسا کام ہے، اس لئے اس معنیٰ کر اس کو کفر بھی کہنا درست ہے، کیوں کہ اس کا انجام عامہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی قرآن وحدیث کی بھی بے ادبی اور گستاخی کر بیٹھتا ہے اس لئے تجدید ایمان اور توبہ کرالی جائے، عالمگیری، بحر، خانیہ ”باب المرتد“ میں ایسا ہی مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔