الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تارک صلوٰۃ کا حکم

سوال

تارک الصلوة عمداً یا استخفافاً کی عورت مطلقہ ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

تارک الصلوة عمداً فاسق وفاجر ہے، امام ابو حنیفہ کے نزدیک کافر نہیں اور تارک الصلوة استخفافاً کافر ہے نماز تو فرض عین اور ام العبادات ہے اگر کسی فعل مسنون کی بھی من حيث السنتہ اہانت کرے تو کافر ہو جاتا ہے اور اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور تجدید نکاح اور تجدید ایمان نہ کرے تو آئندہ کو اولاد حرامی ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو