غیبت کے غیبت ہونے سے انکار
سوال
ایک نائی غیبت کر رہا تھا اس کو منع کیا گیا اس نے کہا یہ غیبت نہیں ہے یہ باتیں اس میں موجود ہیں اس کو سمجھایا گیا کہ موجود ہے تو غیبت ہے نہ ہوتی تو تہمت ہے آیا شخص توبہ کرلے اور پھر سے اپنی بیوی سے نکاح پڑھوائے یا ضرورت نہیں ہے؟
جواب
رد المحتار میں علامہ شامی نے ایسے شخص پر بہت سخت حکم لکھا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا امر کیا جائے، بہتر یہ ہے کہ اس نائی کو بزرگ عالم کی طرف متوجہ کیا جائے کہ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرے ان کی صحبت ونصیحت سے امید ہے کہ اصلاح ہوگی محض فتوی سے اصلاح کی توقع اس وقت ہے جبکہ قلب میں تقویٰ اور خشیت ہو اور تقویٰ بزرگوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے جب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔