حکم شرع کا انکار
سوال
زید سے کہا گیا کہ طلاق کی عدت کا نفقہ تمہارے ذمہ ہے تمہاری مطلقہ کا اگر تم نے طلاق دی، تو کہا میں نہیں دینے کا، اسکے ماں باپ جنہوں نے روک رکھا ہے وہی عدت میں کھلا دینگے پھر زید سے کہا اگر ایسا موقعہ طلاق کا آیا تو وہ عورت کا حق ہے چاہے لے چاہے معاف کر دے مگر لڑکی تمہاری دختر ہے آٹھ نو ماہ کی ہے اسکا حق حضانت اسکا نفقہ تو شرعاً تمہارے ذمہ واجب ہے اسکے جواب میں زید نے کہا میں نہیں دوں گا پھر اس سے کہا گیا شرع شریف کا حکم ہے اسنے کہا میں نہیں دینے کا، اس سے کہا گیا کہ اسطرح شرع شریف کے حکم کو ٹھکرانا اور توہین کرنا…
جواب
ایسا کہنا سخت گناہ اور بہت خطرناک ہے حتی کہ بعض فقہاء نے ایسا کہنے پر تکفیر فرمائی ہے اسلئے زید کو اس سے توبہ واجب ہے اور احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کر لینی چاہئے واذا قال الرجل لغيره حكم الشرع في هذه الحادثة كذا فقال ذلك الغير ”من برسم کار کنم نه بشرع“ يكفر عند بعض المشايخ رجل عرض عليه خصمه فتوى الائمة فردها وقال چه بارنامه فتوی آورده قيل يكفر لانه رد حکم الشرع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔