منکر نماز جنازه
سوال
ایک شخص نے اپنی تمام زندگی سرنگوں نہیں کیا یعنی لڑکپن سے لیکر حالت پیری تک نماز نہیں پڑھی اس کی موت آنے کے ایک سال قبل کسی شخص نے اس کو برائے نماز تلقین کی اسکے جواب میں شخص مذکور نے یہ کہا تھا کہ ہمیں نماز کیلئے ہدایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم نہیں پڑھتے اور نماز (عیاذ باللہ) کوئی چیز نہیں ہے تو آیا یہ کفر حکمی ہے یا حقیقی؟ اگر اس کے کفر کی بناء پر کسی نے نماز جنازہ نہیں پڑھائی تو آیا اس کے اوپر شریعت کیا کہتی ہے؟
جواب
نماز فرض عین ہے جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور تارک فاسق ہے اگر مقتدا شخص مذکور کی نماز جنازہ نہ پڑھے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو تو شرعاً وہ قابل ملامت نہیں لیکن تکفیر مسلم میں جلدی نہیں کرنا چاہئے جب تک اس کے کلام کیلئے صحیح محمل نکل سکے جانب کفر کو اختیار نہیں کرنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔