مسلمان ہونے والے کو فوراً مسلمان کرنا چاہئے
سوال
چند احباب امام مسجد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ایک نوجوان مسلمان ہونا چاہتا ہے، آپ کلمہ پڑھا دیں، یعنی مسلمان بنائیں، امام صاحب نے جواباً کہا کہ اس وقت ضروری کام میں لگا ہوا ہوں، فلاں صاحب اثر ورسوخ حاجی صاحب بھی تشریف فرما ہیں، اسلئے آپ حضرات کسی اور امام کے پاس جائیں، اس بات پر ایک صاحب کا کہنا ہے کہ اگر شخص ایمان لانے سے قبل راستے میں مر جاتا تو امام صاحب ذمہ دار ہوتے، امام صاحب سے بہت بڑا گناہ صادر ہوا کہ ایک غیر مسلم کو ایمان سے مشرف نہ کیا ایسی زبردست غلطی نہ کرنا چاہئے تھا، امام صاحب کو توبہ کرنا…
جواب
ایک شخص کفر چھوڑ کر اسلام قبول کرنا چاہتا ہے واقعی اس کو فوراً مسلمان کرنا چاہئے، اور کفر سے توبہ کرادی جائے، اس میں تاخیر کرنا یا کسی اور کے پاس بھیجنا نہایت غلط طریقہ ہے، فقہاء نے ایسے شخص پر بہت سخت حکم لگایا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔