انکار قرآن وحدیث کے ساتھ ایمان نہیں
سوال
قرآن پاک کا منکر کافر ہے یا نہیں؟ نیز احادیث نبویہ کا منکر کافر ہے یا نہیں؟ قرآن پاک میں ہے”مَا أَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا“ تو کیا اگر احادیث کا انکار کر دیا تو اس آیت کے خلاف ہو گا یا نہیں؟ پھر قرآن کریم میں ہے” وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی“ کا مصداق کہا جائیگا، نیز کیسے معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں ہے، جب کہ احادیث کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ حدیث میں ہے” عَنْ رَافِعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ…
جواب
حدیث قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں، فعل اور تقریر پر بھی حدیث کا اطلاق ہوتا ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں میرے پاس فرشتہ وحی لیکر آیا قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے، نماز قائم کرنا، روزہ رکھنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اسلام کے ارکان ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں حدیث کہلاتی ہیں، جو شخص مطلق حدیث کو تسلیم نہیں کرتا وہ ان میں سے کسی چیز کو تسلیم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔