کیا محض ایمان پر جنت کی بشارت ہے
سوال
آیتُ ”إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ كَانَتْ لَهُمُ الخ“ میں ایک عالم نے اکثر مفسرین کا یہ مذہب بتلایا ہے کہ محض ایماندار بغیر اعمال صالحہ نماز، روزہ وغیرہ کے بھی اس بشارت کے مستحق ہیں کیونکہ شی نہیں عطف کی جاتی ہے اپنے نفس پر یہ کیونکر ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص ایمان لاتے ہی مر جاوے اور اعمال صالحہ کی اس کو نوبت نہ آئی ہو تو وہ بھی قانون خداوندی میں مذہب حق کی بنا پر اس بشارت میں داخل ہے اور جس کو ایمان لانے کے بعد وقت ملا لیکن اس نے اعمال صالحہ نہیں کئے بلکہ معاصی میں مبتلا رہا اسکے لئے قانوناً دخول اولیٰ نہیں البتہ سزا کے بعد مستحق جنت ہوگا ان عالم کے استدلال کا حاصل ہوا کہ ایمان اور اعمال صالحہ جدا جدا ہیں، لہذا دونوں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔