صرف کلمہ پڑھنے سے دخول جنت
سوال
زید کہتا ہے اگر چہ مسلمان لوگ دنیا میں گناہ کھلم کھلا کرتے ہیں اور فسق وفجور کے کام بھی کرتے ہیں ایسے لوگ نماز بھی چند وقت کی پڑھتے ہیں اور رمضان شریف کے چند روزے بھی رکھتے ہیں وعظ ونصیحت بھی سنتے ہیں اور حقوق العباد سے غافل رہتے ہیں وراثت کے حق بھی ادا نہیں کرتے اللہ اور رسول کے حکم کو ٹالتے ہیں تو کیا ایسے لوگ موت کے وقت کلمہ پڑھ کر یا کلمہ نصیب ہو تو فوراً بغیر عذاب پائے جنت میں چلے جائیں گے کیونکہ زید کہتا ہے کہ کلمہ نصیب ہونے سے تمام گناہ معاف ہو کر وہ فوراً جنت میں داخل ہو جاتے ہیں بینوا توجروا۔
جواب
زید کا یہ کہنا کلیہ صحیح نہیں ورنہ بے شمار نصوص کا انکار لازم آئیگا، البتہ جو شخص ابھی ایمان لایا ہو اور کسی عبادت کا وقت اس پر نہیں آیا کوئی گناہ ایمان لانے کے بعد اس نے نہیں کیا تو اس کے حق میں زید کا یہ قول صحیح ہے قرآن پاک میں ہے ”فَمَنْ يَعْمَلْ مثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ“، یعنی جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے وہ اس کو دیکھے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔