مسلمان آپس کے اختلاف کے بعد بھی مسلمان ہیں
سوال
ہندوستان یا کسی بھی ملک میں کافی تعداد میں مسلمان آباد ہیں اور آپس میں بوجہ پارٹی بندی سب مختلف الخیال ہیں جس کی وجہ سے آئے دن ان پر حملہ ہوتا رہتا ہے، اور ان کی جان ومال، عزت وعصمت سب غیر محفوظ ہیں، ایسی صورت میں وہ مسلمان ہیں، یا نہیں؟ اگر ہیں تو اس کی کیا صورت ہے اور کس طرح ہے؟
جواب
نفسانی اغراض اور ذاتی اقتدار کی بناء پر اختلاف اور پارٹی بندی سخت مذموم ہے، اس کے نتائج نہایت خراب ہیں، جیسا کہ مشاہدہ ہے لیکن پھر بھی ان کو کافر نہیں کہا جائیگا وہ مسلمان ہی ہیں ان کو اپنی حرکتوں سے باز آنا اور توبہ کرنا لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔