ایمان میں کمی زیادتی
سوال
زید کہتا ہے کہ ایمان اور تصدیق ویقین سب کا ایک ہی مطلب ہے، بکر کہتا ہے کہ ایمان وتصدیق ویقین میں فرق ہے، ایمان جزو عمل ہے، گھٹتا بڑھتا ہے، نبی علیہ السلام کے مقدار ایمان اور آج معمولی مسلمان تارک صوم وصلوٰۃ وحج وزکوۃ وغیرہ کے ایمان میں مساوات نہیں، ارکان اسلام کی پابندی سے ایمان بڑھتا ہے، نہ کرنے سے گھٹتا ہے، کم از کم قرآن مجید کی ایک درجن آیتوں سے زیادتی ایمان ثابت ہے حدیث میں کچھ اوپر ستر ایمان کی شاخ آئی ہیں متعدد مقام پر ہے کہ ایمان کم وبیش ہوتا ہے، بڑی شاخ”لا الہ الا الله “ہے، چھوٹی شاخ راستہ سے نقصان دہ چیز…
جواب
مقلد کے ذمہ ضروری ہے کہ امام نے جو کچھ قرآن وحدیث کا مطلب سمجھا ہے اور اس سے مسائل کا استنباط کیا ہے اسکو مانے اور ان مسائل پر عمل کرے اور اسکے خلاف قیاس آرائی کرنا اور اٹکل کے تیر چلانا منصب مقلد کے خلاف ہے، خصوصاً جبکہ جمیع علوم شرعیہ میں پوری مہارت نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ اپنے امام کے بیان کردہ مسائل میں تردد اور رائے زنی کرے، اسی طرح دلائل دریافت کرنے کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔