الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Достоверность книги «Анвар аль-атк’ия» и слов Аттара

سوال

(۱) انوار الاتقیاء حضرت فرید الدین عطار جس کا ترجمہ تذکرۃ الاولیاء، حافظ برکت اللہ صاحب فرنگی محلی نے کیا ہے، کیا یہ معتبر ہے؟ (۲) کیا اس کتاب کے مصنف ولی تھے؟ کیا انکا شمار صف اول کے اولیاء میں ہوتا ہے؟ (۳) کیا ان کے اقوال معتبر اور ثقہ ہیں کہ ان پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے؟ (۴) اگر کوئی اس کتاب کو فضولی اور غیر معتبر مانے تو وہ کیسا ہے؟ (۵) کیا حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی نے اپنی کسی کتاب میں اس کتاب کو معتبر فرمایا ہے؟

جواب

(۱) مجھے اس کتاب کی زیارت نہیں ہوئی، اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ (۲) حضرت فریدالدین عطار مشہور اولیاء میں سے شمار ہوتے ہیں۔ (۳) اصلاح باطن اور معارف میں ان کا قول خاص وزن رکھتا ہے، اور ان کی ہدایات سے روشنی ملتی ہے، چنانچہ انکا پند نامہ عطار شائع اور داخل درس ہے، اکابر اس کے مطالعہ کی تاکید فرماتے ہیں۔ (۴) ساری کتاب کو لغو کہتا ہے یا کسی خاص عبارت پر اعتراض کرتا ہے۔ (۵)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو