Хадис о ветви на могилах и фатиха над едой
سوال
ایک شخص فاتحہ مروجہ کے جواز میں دلیل میں دور وایتیں پیش کرتا ہے: (۱) ملاعلی قاری اپنے فتوی آزر جندی میں روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے تیسرے دن حضرت ابوذر غفاری نے دودھ اور چھوارے لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے، آپ ﷺ نے اس پر ایک مروجہ طریقہ کے مطابق ہاتھ اُٹھا کر چاروں قل اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر ثواب روح اپنے صاحبزادے کو بخشا، انتہی ملخصاً۔ (۲)
جواب
یہ کتاب ملا علی قاری کی تصنیف نہیں اور روایت بھی صحیح نہیں، کتب حدیث میں اس روایت کا کوئی نشان نہیں، مولانا عبد الحئی نے اس کو موضوع لکھا ہے، فتاوی رشیدیہ حصہ اول ص ۱۰۴-۱۰۵-۱۰۶ر پر اس روایت کے متعلق تفصیلی رد موجود ہے، اور دہلی لکھنو، مراد آباد پانی پت وغیرہ کے بہت سے علماء کے دستخط اس پر متفقہ ہیں اس روایت سے پر استلال کسی طرح ہوا، کیا فاتحہ پڑھی ہے یا کچھ پڑھ کر پانی پر دم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔