الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Запрет не-алимам разъяснять шариатские вопросы

سوال

صرف اردو داں حضرات کو فقہی مسائل (نماز وضو وغیرہ کے علاوہ) بتلانے سے اگر روکا جائے کہ آپ مسئلہ نہیں بتلائیں، تو یہ اقدام غلط ہوگا، یا سیح؟ جبکہ عالم دین موجود ہیں، بعض تو اردو سمجھ لیتے ہیں، اور بعض اردو بھی نہیں سمجھ پاتے، دونوں کو روکا جائے کہ حرام و حلال والے مسائل نہ بتائیں، تو اس رکاوٹ کی اجازت ہے یا نہیں؟ رکاوٹ میں سختی کی جاسکتی ہے نہیں؟

جواب

جب تک فقہ کے مسائل باقاعدہ معتمد استاذ سے حاصل نہ کئے ہوں، کچھ اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ صحیح طور پر ان کو بیان کیا جائیگا، اس لئے اس کی عام اجازت نہیں دی جائے گی، اگر چہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ صحیح سمجھ کر صحیح بیان کر دے، اس لئے پہلے کسی واقف کار مستند عالم کو وہ مسائل سنا دیئے جائیں، جب وہ تصویب کر دے، تو پھر ان کو بیان کرنے کی بھی گنجائش ہے، مگر ان کی اپنی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو