Невежественный муфтий
سوال
ایک صاحب میرے یہاں ہیں ان کا نام خدا بخش ہے اور وہ فتویٰ دیتے ہیں حالانکہ وہ عربی بھی نہیں جانتے ہیں ہر سال بچوں کے اسکول کا روپیہ کھا جاتے ہیں اور اپنی برادری میں ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ بھائیو! میں نے اسکول کا روپیہ اپنے خرچ میں لے لیا ہے اور میں ادا نہیں کر پاؤں گا اس کو آپ لوگ معاف کر دیجئے، وہ بے چارے مجبور ہو کر معاف کر دیتے ہیں کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ یہ دے نہیں پائیگا اور نماز میں تہجد ادا کرتا ہے، اور ٹی شارع عام پر پھرتا ہے راستہ چلنے والی عورتیں اور آدمی اپنے منھ پھیر لیتے ہیں مگر ان کو شرم نہیں…
جواب
جاہل آدمی کا بلا تحقیق علم حاصل کئے فتوی دینا فتوی نہیں بلکہ ضلالت اور گمراہی ہے اور ایسے شخص کو مفتی کہنا بھی جہالت اور ضلالت ہے سب کے سامنے ستر کھولنے والے پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔