Фетва неаттестованного алима
سوال
کوئی غیر مستند عالم یا غیر مستند مفتی جس نے کسی ادارے سے سند حاصل نہ کی ہوا ایسا شخص تحریری یا زبانی فتوی دے سکتا ہے یا نہیں؟ جیسا کہ اکثر جماعت اسلامی کے افراد جو کہ اکثر عالم نہیں ہوتے اور نہ مفتی ہوتے ہیں، وہ فتوی دیتے ہیں۔ لہذا ایسے غیر مستند مفتیوں کے فتاوی کا اعتبار کیا جائے گا یا نہیں؟
جواب
جس مسئلہ کی پوری تحقیق کر لی ہو خواہ استاذ کے پڑھ کر ہو یا اہل علم سے سن کر ہو اس کو پوری احتیاط کے ساتھ نقل کرنا درست ہے۔ از خود کتاب دیکھ کر بسا اوقات سمجھنے میں غلطی ہو جاتی ہے، اس لئے محتاط حضرات ہمیشہ فتوی دینے سے بچتے ہیں، جب تک کہ اس فن کو با قاعدہ حاصل نہ کیا ہو وہ ہرگز جسارت نہیں کرتے، اس کی اجازت بھی نہیں۔ عقود رسم المفتی میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔