Вынесение фетвы без должного исследования
سوال
عدم تحقیق وثبوت کی صورت میں ظنی طور پر مسئلہ بتانا کیسا ہے؟ جبکہ کبھی تحقیق کے بعد صحیح نکلے اور کبھی غلط ہو جائے؟
جواب
بلا تحقیق مسئلہ بتانا درست نہیں ہے۔ ” وفی اثر مرفوع ذكره ابو الفرج وغيره من افتى الناس بغير علم لعنته ملائكة السماء وملائكة الارض، كذا في اعلام الموقعين ج ۲ ص ۲۵۶۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔