الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام کے لئے نو تہ لکھنے کی ذمہ داری

سوال

ایک قریہ کا قدیم سے دستور ہے کہ جو امام مسجد میں رہتا ہے اس کو نو تہ وغیرہ شادی میں لکھنا پڑتا ہے، اور اگر امام انکار کرے، تو وہ لوگ معترض ہوتے ہیں، ایک امام اس سے گریز کرتا ہے، اور دوسرا امام اس کو کرتا ہے، آیا یہ نو تہ لکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نو تہ قرض ہے جس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، قرض کے لین دین کا لکھنا شرعی حکم ہے، اگر بوقت ملازمت امام سے طے کر لیا جائے، جیسا کہ بعض جگہ نکاح کا لکھنا اور مسجد کی صفائی وغیرہ کے امور طے کر لئے جاتے ہیں، تو درست ہے مگر بلا ضرورت قرض لینا، اور کسی کو مجبور کر کے قرض دینا اور بلا وجہ ادائے قرض میں تاخیر کرنا شرعاً منع ہے، لہذا اس رسم کو ترک کرنا چاہئے، ایک شخص نے جتنا نو تہ دیا ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو